5 مارچ 2017 - 18:49
ایران کے بعد سب سے زیادہ اہل تشیع پاکستان میں ہیں

آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ راحیل شریف کو اسلامی اتحاد کا سربراہ بننے سے قبل سوچنا چاہیے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ راحیل شریف کو اسلامی اتحاد کا سربراہ بننے سے قبل سوچنا چاہیے۔

نجی ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایران کے بعد سب سے زیادہ اہل تشیع پاکستان میں آباد ہیں پاکستان کو اتنے گمبھیر فرقہ وارانہ معاملے میں نہیں پڑنا چاہیے۔

سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی جانب سے اسلامی اتحاد کے متوقع سربراہ بننے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ معاملات میں داخل ہوتے ہوئے پاکستان کو 100 بار سوچنا چاہیے، راحیل شریف پاکستان کے آرمی چیف رہے ہیں انہیں بھی یہ سوچنا پڑے گا، ایران کے بعد سب سے زیادہ اہل تشیع پاکستان میں ہیں اتنے گمبھیر معاملے میں ہمیں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے پوری فورس کا جائزہ لیا جائے، اس کے کمانڈرز سے ملا جائے، اہداف دیکھے جائیں کہ کیا اس فورس کے ساتھ ان اہداف کا حصول ممکن ہے؟ اگر یہ ممکن ہوتا نظر نہ آئے تو اسے جوائن ہی نہیں کرنا چاہیے، جنگجوؤں کو مارنے کے لیے اس طاقت کے ساتھ جائیں جو ضروری ہے بصورت دیگر نہیں۔

جنرل راحیل شریف نے آپ کو سپورٹ کیا اور نئی فوجی قیادت نے آپ کو کوئی ضمانت نہیں دی اس لیے آپ وطن نہیں آرہے اس سوال پر مشرف نے کہا کہ فوج میری فوج ہے جس پر فخر کرتا ہوں، 45 برس فوج میں رہا اور اسے کمانڈ بھی کیا، میری کمانڈ فیلڈ کمانڈ تھی، کارگل سمیت کئی جنگیں لڑیں، اس وقت جو بھی قیادت ہے جو میرے ماتحت رہے ہیں اور مجھے جانتے ہیں یا میرے اسٹوڈنٹس رہے ہیں جہاں جہاں میں نے پڑھایا ہے، یہ لوگ کیسے مجھے بھول سکتے ہیں۔

.....

/169